15 جون 2009 - 19:30

اسلام آباد اور پشاور کے بعد بلوچستان میں بھی بلیک واٹرز کی موجودگی کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔

افغانستان کے شمالی سرحدی علاقے پنج شیر میں ایسے انسٹیٹیوٹس موجود ہیں جہاں امریکی فوجیوں کے خصوصی گروہ کو پشتو، فارسی، براہوں، بلوچی اور اردو زبان لکھائی جاتی ہے، یہ لوگ مقامی زبانوں میں عبور کرنے کے بعد سفارتی طور پر یہاں آتے ہیں اور پھر مقامی لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں۔مختلف میڈیا کی  رپورٹس کے مطابق بعض سیاسی رہنماؤں نے بلیک واٹرز کی بلوچستان میں موجود گی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے  مزید کہا کہ پشاور اور اسلام آباد کے بعد بلیک واٹرز کو بلوچستان میں بھی راہداری الاٹ کر دی گئی ہے ۔ فاران کے شمسی ائیر پورٹ پر چند ہفتوں سے سرگرمیوں میں  اضافہ دکھائی دے رہا ہے ۔ یہاں پہلے سے زیادہ امریکی جہاز دکھائی دیتے ہیں مسلم باغ اور قلعہ سیف اللہ کے علاقہ باوینی میں پاک افغان سرحد پر امریکہ کا ایک بڑا کیمپ ہے تاہم حکومت کی طرف سے کسی نے بھی ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے ۔